گلزار بخاری ۔۔۔ روش ہے سہل کہ دشوار دیکھ لیتے ہیں

روش ہے سہل کہ دشوار دیکھ لیتے ہیں
سفر سے قبل ہی آثار دیکھ لیتے ہیں

نگاہ دیکھتی ہے سامنے کے منظر کو
شعور سے پسِ دیوار دیکھ لیتے ہیں

مراد ، ذوق و طلب سے چھپی نہیں رہتی
طیور شاخِ ثمردار دیکھ لیتے ہیں

سوال ٹھیک نہیں ہر چراغ سے لَو کا
دیا ہے کس کا ، طلب گار دیکھ لیتے ہیں

خریدنے کے لیے کچھ گرہ میں ہو کہ نہ ہو
گزر کے گرمیٔ بازار دیکھ لیتے ہیں

تعلقات میں غفلت روا نہیں گلزار
کسی سے کیا ہے سروکار دیکھ لیتے ہیں

Related posts

Leave a Comment